دیوار - نظم
"دیوار"
میں اک دیوتائے انا
نرگسیت کا مارا ہوا
اور ازل سے تکبر میں ڈوبا ہوا
کافی خود سر ہوں
ضدی ہوں، مغرور ہوں
میرے چاروں طرف میری اندھی انا کی وہ دیوار ہے جس میں آنے کی اور مجھ سے ملنے کی گھلنے کی کوئی اجازت کسی کو نہیں ہے
تمہیں بھی نہیں ہے
اسے بھی نہیں ہے
مجھے بھی نہیں ہے
میں اپنی انا کی دیواروں میں تم سے الگ ہو رہوں
مجھ پہ سجتا بھی ہے یہ
میں شاعر ہوں جو کہ فعولن فعولن سے بحر رمل تک
ہر اک نغمگی کا مکمل خدا ہوں
میں لفظوں کا آقا
تخیل کا خالق
میں سارے زمانے سے یکسر جدا ہوں
مجھے زیب دیتا ہے میں اپنی دیوار میں اس طرح سے مقید رہوں
یونہی سید رہوں
مجھ پہ سجتا ہے یہ
پر جو کل صبح تری شبنمی سے تبسم میں لپٹی ہوئی
اک نظر بے نیازی سے مجھ پہ پڑی
تیری پہلی نظر سے مری جان جاں
میری دیوار میں اک گڑھا پر پڑ گیا
اور یہ ہی نہیں ، مجھ پہ وہ ہی نظر
جب دوبارہ دوبارہ دوبارہ پڑی
میری دیوار میں زلزلے آگئے
میرے رخنے شگافوں میں ڈھلنے لگے
میرے اندر تلا طم، وہ اآتش فشاں۔
وہ بگولے وہ طوفاں وہ محشر بپا تھا
کہ میں وہ کہ جس کے تحمل کی حکمت کی
فہم و لطافت کی تمثیل شاید کہیں بھی نہیں تھی
سلگنے لگا
اپنی حدت سے خود ہی پگھلنے لگا
! اے مری جانِ جاں
ہر ستارے کی اپنی کشش ہوگی لیکن
خلائوں میں مردہ ستاروں کی قسمت
وہ ہاکنگ کی تھیوری کے کالے گڑھے
وہ وہی وہ کہ جن میں ہے اتنی کشش کہ مکاں تو مکاں
وہ زماں کو بھی اپنے لپیٹے میں لے لیں
وہ ہاکنگ کی تھیوری کے کالے گڑھوں کی گریویٹی بھی
تیری انکھوں کی گہری کشش کے مقابل میں کچھ بھی نہیں
اور یہ تو فقط ایک دیوار تھی
اس کو گرنا ہی تھا
تیری نظروں سے ہاری ہے بکھری پڑی ہے
کہ دیوار کا ریزہ ریزہ تری اک نظر سے مری جان
اجڑا پڑا ہے
میں جو دیوتائے انا، نرگسیت کا مارا ہوا ، وہ جو خود سر تھا
ضدی تھا ، مغرور تھا
جو فعولن فعولن سے بحر رمل تک ہر اک نغمگی کا مکمل خدا تھا
تری اک نظر سے ، اناؤں کے عرشِ معلیٰ سے سیدھا ترے پاؤں میں آکے
!بکھرا پڑا ہے۔۔۔۔
صہیب مغیرہ صدیقی
Wah g wah
ReplyDelete