نظم

جیل میں گُنگناتی ہوئی قیدی نمبر اٹھارہ کے ہونٹوں پہ رکھے ہوۓ گیت مرجھا گئے ہیں
ٹھیک کہتی تھی تم
کہ عورت بدن ہار کر ہار جاتی ہے سب کچھ
وقت ہی تو نہیں  ورنہ میں
ان اندھیروں کے آغاز پر روشنی ڈال کر تم کو آزاد کر دوں
تمہارے بنائے ہوۓ خوف کے دائروں سے
تم کو ان موسموں کا بتاؤں
جو ہم تک پہنچنے سے پہلے کہیں روک لیتا تھا کوئی
کیسی آواز تھی ، جس کی خواہش میں دھاگوں کے
کونے پکڑ کر گزرتے تھے دن
وقت ہی تو نہیں
ورنہ میں تم کو ماچس سے لپٹا ہوا اپنا بچپن دکھاتا
وقت ہی تو نہیں ہے
میں ورنہ تمہیں یہ بتاتا کہ میری محبت تمہارے بدن سے علاقہ نہیں تھی
تمہیں چھو کے بس دیکھنا تھا
کہ کیا واقعی لمس دھوکہ ہے یا جھوٹ کہتی ہے سائنس
وقت کے ساتھ بیلنس بھی کم ہے
اور کال کٹنے سے پہلے
بس اتنا کہوں گا
کہ دریا غلط بہہ رہے ہیں

تہذیب حافی

Comments

Popular posts from this blog

دیوار - نظم

غزل