Posts

غزل

عدم کی نیند میں سوئے ہوے کہاں ہیں وہ اب جو کل وجود  کی آنکھوں کو  مل رہے ہوں گے ملے  نہ  ہم کو  جواب  اپنے  جن  سوالوں  کے کسی زمانے  میں ان کے بھی  حل رہے ہوں گے بس  اس  خیال  سے   دیکھا  تمام  لوگوں  کو جو  آج  ایسے  ہیں کیسے  وہ کل  رہے ہوں گے پھر  ابتدا  کی  طرف   ہو   گا   انتہا   کا   رخ ہم  ایک  دن  یہاں  شکلیں  بدل  رہے  ہوں گے ملال  ایسے  کئی  لوگ   ہوں  گے  رستے  میں جو  تم  سے  تیز  یا  آہستہ  چل  رہے  ہوں گے صغیر ملال

نظم

جیل میں گُنگناتی ہوئی قیدی نمبر اٹھارہ کے ہونٹوں پہ رکھے ہوۓ گیت مرجھا گئے ہیں ٹھیک کہتی تھی تم کہ عورت بدن ہار کر ہار جاتی ہے سب کچھ وقت ہی تو نہیں  ورنہ میں ان اندھیروں کے آغاز پر روشنی ڈال کر تم کو آزاد کر دوں تمہارے بنائے ہوۓ خوف کے دائروں سے تم کو ان موسموں کا بتاؤں جو ہم تک پہنچنے سے پہلے کہیں روک لیتا تھا کوئی کیسی آواز تھی ، جس کی خواہش میں دھاگوں کے کونے پکڑ کر گزرتے تھے دن وقت ہی تو نہیں ورنہ میں تم کو ماچس سے لپٹا ہوا اپنا بچپن دکھاتا وقت ہی تو نہیں ہے میں ورنہ تمہیں یہ بتاتا کہ میری محبت تمہارے بدن سے علاقہ نہیں تھی تمہیں چھو کے بس دیکھنا تھا کہ کیا واقعی لمس دھوکہ ہے یا جھوٹ کہتی ہے سائنس وقت کے ساتھ بیلنس بھی کم ہے اور کال کٹنے سے پہلے بس اتنا کہوں گا کہ دریا غلط بہہ رہے ہیں تہذیب حافی

دیوار - نظم

"دیوار" میں اک دیوتائے انا نرگسیت کا مارا ہوا اور ازل سے تکبر میں ڈوبا ہوا کافی خود سر ہوں  ضدی ہوں، مغرور ہوں میرے چاروں طرف میری اندھی انا کی وہ دیوار ہے جس میں آنے کی اور مجھ سے ملنے کی گھلنے کی کوئی اجازت کسی کو نہیں ہے  تمہیں بھی نہیں ہے  اسے بھی نہیں ہے  مجھے بھی نہیں ہے  میں اپنی انا کی دیواروں میں تم سے الگ ہو رہوں  مجھ پہ سجتا بھی ہے یہ  میں شاعر ہوں جو کہ فعولن فعولن سے بحر رمل تک  ہر اک نغمگی کا مکمل خدا ہوں میں لفظوں کا آقا  تخیل کا خالق  میں سارے زمانے سے یکسر جدا ہوں مجھے زیب دیتا ہے میں اپنی دیوار میں اس طرح سے مقید رہوں یونہی سید رہوں مجھ پہ سجتا ہے یہ پر جو کل صبح تری شبنمی سے تبسم میں لپٹی ہوئی  اک نظر بے نیازی سے مجھ پہ پڑی  تیری پہلی نظر سے مری جان جاں  میری دیوار میں اک گڑھا پر پڑ گیا اور یہ ہی نہیں ، مجھ پہ وہ ہی نظر  جب دوبارہ دوبارہ دوبارہ پڑی  میری دیوار میں زلزلے آگئے  ...

غزل

یہ سرد رات کوئی کس طرح گزارے گا  ہوا  چلی  تو  لہو  کو  لہو   پکارے  گا  یہ سوچتے ہیں کہ اس بار ہم سے ملنے کو وہ اپنے بال ! کس انداز  میں سنوارے گا شکایتیں ہی کرے گا  کہ خود غرض نکلے وہ دل میں کوئی بلٹ تو نہیں اتارے گا ! یہی بہت ہے کہ وہ خود نکھرتا جاتا ہے  کسی خیال کا چہرہ  تو کیا نکھارے گا  یہی  بساط  اگر  ہے  تو   ایک  روز  فروغؔ ! جو ہم سے جیت چکا ہے وہ ہم سے ہارے گا رئیس فروغ