غزل

یہ سرد رات کوئی کس طرح گزارے گا 
ہوا  چلی  تو  لہو  کو  لہو   پکارے  گا 

یہ سوچتے ہیں کہ اس بار ہم سے ملنے کو
وہ اپنے بال ! کس انداز  میں سنوارے گا

شکایتیں ہی کرے گا  کہ خود غرض نکلے
وہ دل میں کوئی بلٹ تو نہیں اتارے گا !

یہی بہت ہے کہ وہ خود نکھرتا جاتا ہے 
کسی خیال کا چہرہ  تو کیا نکھارے گا 

یہی  بساط  اگر  ہے  تو   ایک  روز  فروغؔ !
جو ہم سے جیت چکا ہے وہ ہم سے ہارے گا

رئیس فروغ

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

دیوار - نظم

غزل

نظم